72

حمدیہ کلام کا عظیم شاہکار۔۔۔دست قدرت . راقم: محمدبرہان الحق(جہلم)

حمد ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی“تعریف“ کے ہیں۔ اردو کے علاوہ حمد باری تعالیٰ، کئی زبانوں میں لکھی جاتی رہی ہے جیسے عربی، فارسی، اردو وغیرہ۔ خداوندِ کریم کی تعریف و توصیف ہر زبان اور ہر مذہب میں پائی جاتی ہے پھر چاہے وہ نظم کی شکل میں ہو یا نثر میں یا کسی بھی انداز میں ہو سکتی ہے۔ حمدیہ کلام شاعری کی قدیم صنف ہے جس کی کئی محاسن و صفات ہیں
”حمد ثنائے  جمیل ہے“ اس ذات مباری تعالی کی جو خالق سماوات و الارض ہے۔ جس کی کارفرمائی کے  ہر گوشے میں حسن و کمال کا نور ہے۔ پس اس مبداء فیض کی خوبی و کمال اور اس کی بخشش و فیضان کے اعتراف میں جو بھی تحمیدی و تمجیدی نغمے گائے جائیں گے ان سب کا شمار حمد میں ہو گا۔ حمد دراصل خدا کے اوصاف حمیدہ اور اسمائے حسنیٰ کی تعریف ہے۔
خداوندِ کریم اپنی لاریب وپاک و منزہ کتاب قرآن پاک میں سورۃ لقمان کی آیت 27 میں یوں فرماتے ہیں کہ:زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے اللہ کی تعریف و توصیف ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔عربی کا لفظ ”حمد“ اللہ تعالیٰ کی تحمید و تمجید کے لیے مختص ہو گیا ہے۔ جس کے لیے حمدیہ شاعری نے ایک مستقل صنف سخن کی صورت اختیار کر لی ہے۔ صرف عربی، فارسی ہی نہیں دیگر زبانوں میں بھی اس کا ذخیرہ موجود ہے۔حمد چونکہ کوئی مشاہداتی صنف نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ قرانِ مجید کا مطالعہ کیے ہوئے ہوں اور چونکہ خدا کی ستائش دیگر دوسرے مذاہب میں بھی موجود ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ان مذہبی کتابوں سے بھی واقف ہوں۔ حمد میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ساتھ اس کے صفات کا بھی ذکر ہوتا ہے۔دنیا کی ہر زبان کے شاعروں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کو پیش نظر رکھا ہے اور اسے یاد کیا ہے۔اردو زبان میں جب سے شاعر ی کا آغاز ہوا تبھی سے حمد لکھی گئی لیکن حمد سے زیادہ توجہ نعت پر دی گئی ہے۔ حمد کی دینی اور ادبی قدر و قیمت کی وجہ سے یہ صرف ہمارے مضطرب جذبات کی تسکین کا سامان، احساس جمال، خوف خدا، بصیرت و بصارت کی توثیق یا شاعری برائے شاعر ی نہیں ہے بلکہ ادب میں اس کی مستقل صنفی حیثیت ہے۔ غزل گو، مرثیہ گو، رباعی گو یا مثنوی و قصیدہ نگار شعرا نے حمد پر باضابطہ یا خصوصی توجہ نہیں دی بلکہ عقیدت اور بسم اللہ کے طور پر رسم پوری کرتے رہے ہیں۔
اردو شاعری میں چیدہ چیدہ افراد کو حمدیہ کلام لکھنے کی سعادت میسر آئی جن میں ایک چمکتا دمکتا نام خالد جوہری صاحب کا ہے جو کہ مایہ ناز ادیب بھی ہیں مایہ ناز شاعر اور ماہر تعلیم بھی ہیں جہنوں نے حمدیہ کلام پر مشتمل کتاب دست قدرت تحریر فرمائی ماہ اگست جشن آزادی پاکستان کے حوالے سے منعقدہ مقابلہ جات کے موقع پر آپ نے مجھے اس کتاب سے نوازاجوہری صاحب کا کمال فن ہے کہ رب تعالی سے اپنی عقیدت ومحبت کو سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔آپ کی شاعری میں حمدیہ کلام کی تمام تر صفات جمع ہیں آپ کی شاعری میں اکثر اشعار قرآن پاک کا مفہوم بیان کرتے نظر آتے ہیں۔
خالد جوہری صاحب کی کی شاعری میں بے حد وسعت موجود ہے۔ اللہ تعالی نے جوہری صاحب کو شاعری میں بہت کمال عطاء کیا ہے۔ خالد جو ہری صاحب نے حمدیہ کلام کے تمام تر تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کمال عجزوانکسار کا پیکر بن کر رب کائنات کے جلال و جمال کا اقرار واظہار کچھ ایسے دلکش انداز میں کیا ہے کہ قاری پڑھ کر جھوم اٹھتا ہے۔
دست قدرت میں فطری مناظر کو اللہ کی تخلیقات کو چاہے وہ سورج ہو چاند ہو زمین ہو یا آسمان،خشکی ہو یا تری، صحرا ہوں یامیدان گل و خار، نظام لیل و نہار، خزاں و بہار، چاند ستارے، دریا موج کنارے، غنچہ وگل،طوطی و بلبل، کڑ کتے بادلوں، بلند کہساروں، گرتی آبشاروں، برگ وثمر کا ذکر کر کے شان ربوبیت بیان کو بیان کیا ہے،۔رب کائنات کی صفات اور اسماء کا اظہاربھی بڑے عمد ہ طریقے سے کیا ہے۔ وہ بڑی عمدگی سے اللہ تعالی کے صفاتی ناموں کو اپنی شاعری میں استعمال کرتے ہیں۔جوہری صاحب نے حمدیہ کلام میں ایسا کلام پیش کیا ہے جس میں اللہ کی حمد کو بیان کیا گیا اورنعت مصطفی ﷺ کو بھی ساتھ حصہ بنایا گیاخدا کا ذکر کرے ذکر مصطفی نہ کرے ہمارے منہ میں ہوایسی زباں خدا نہ کرے“جوہری صاحب نے تشبیہات استعارات اور تلمیح کا کمال استعمال کیا ہے۔
دست قدرت میں اللہ کے جمال کو بیان کیا گیا ہے اللہ رب العزت کے جلالیت کو بھی بیان کیا گیا ہے اللہ کی رحمانیت و رحمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے اللہ کی ستاری اللہ کی جباریت اللہ کی قہاریت بیان کیا گیا ہے الغرض حمدیہ کلام کا عظیم شاہکار دست قدرت ہے چند ایک افراد کو یہ توفیق ملی کہ وہ حمدیہ کلام پہ کام کریں اللہ خالد جوہری صاحب کی کاوش کو قبول فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں