87

استاد ایک عظیم ہستی . راقم:محمدبرھان الحق جلالی(جہلم)

خالق کون و مکاں نے تخلیق انسان کو احسن التقویم ارشادفرمایاہے،مصوری کا یہ عظیم شاہکار دنیائے رنگ وبو میں رب کائنات کی نیابت کا حق عطا کیا۔اشرف المخلوقات، مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ سے متصف حضرت انسان نے یہ ساری عظمتیں،شانیں اور رفعتیں صرف اور صرف علم کی وجہ سے حاصل کی ہیں علم،عقل و شعور، فہم وادراک،معرفت اور جستجو وہ بنیادی اوصاف تھے جن کی وجہ انسان باقی تمام مخلوقات سے اعلیٰ اور ممتازقرار پایا۔
یہ حقیقت ہے کہ علم کا حصول درس او رمشاہدہ سمیت کئی خارجی ذرائع سے ہی ممکن ہوتا ہے،ان میں بنیادی و مرکزی حیثیت استاد ہی کی ہے،جس کے بغیر صحت مند معاشرہ تشکیل پاناناممکن ہے،معلّم ہی وہ اہم ہستی ہے جو تعلیم وتربیت کامرکز و محور ہوتا ہے۔
سنگ بے قیمت تراشا اور جوہر کردیا
شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا
دین اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ”انمابعثت معلما“فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیا تک عزت و تعظیم وتوقیراور رفعت و بلندی کے اعلی منصب پر فائز فرمادیا۔درس و تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ دنیا نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے اس کو بلند مقام سے عطاء کیا۔ کسی بھی انسان کی فلاح وکامیابی کے پیچھے ایک بہترین استاد کی بہترین تعلیم وتربیت ہی کار فرما ہوتی ہے۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں۔ ایک کورے کاغذ جیسے بچے سے لے کر ایک کامیاب وکامران انسان تک کاسارا سفرانہی اساتذہ کرام کے مرہون منت ہوتا ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جو رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ جیسے سنوارنا چاہیں سنوار سکتے ہیں. استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی دیکھتا ہے۔ استاد ہی قوم کے نوجوان کو علوم و فنون سے آراستہ پیراستہ کرتا اور اس قابل بناتا ہے۔ کہ وہ ملک اور قوم کی پریشانیوں اور ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔ استاد جہاں نوجوانوں کی اخلاقی وروحانی تربیت کرتا۔انسان کو اس کی ذات سے آگہی ایک استاد ہی کراتا ہے۔ خدا کی ذات کا انکشاف بھی استاد ہی کراتا ہے۔ ایک بہترین استاد وہی ہوتا ہے جو صرف کتابوں کا علم ہی نہیں دیتا ہے بلکہ کردار سازی، شخصیت سازی بھی اسی کی ذمے داری ہے۔جن قوموں نے استاد کو عزت دی جہنوں نے استاد کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھا ان کو عروج ملا اور جہنوں نے استاد کو پس پشت ڈالا وہ ناکام و نا مراد ہوئے
اس دنیا میں عظمت کی جتنی داستانیں ملتی ہیں، وہ ایک استاد ہی کی بدولت وجود میں آتی ہیں۔ عظیم لوگ استاد کی ہی عظمت کا نتیجہ ہیں۔ کسی نے اگر خاک سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں پر پرواز کیا ہے، تو یہ ایک استاد کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی سے ہی ممکن ہوا ہے۔ کوئی بھی قوم اور معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ استاد ہی قوم کے معمار ہیں اور وہی ہیں جو قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں، تو اپنے استاد کی تکریم کی بدولت ہی کرتی ہیں۔
استاد کا احترام اسلامی نقطہ نظر سے دو اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے:
1۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناتے ہمارے روحانی باپ ہوتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں
2۔ اسلامی تعلیم میں استاد کی تکریم کا جا بجا حکم ملتا ہے آپﷺ کا یہ کہنا انما بعثت معلما کہ مجھے ایک معلم بنا کر بھیجا گیا ہے اس بات کی بین اور واضح دلیل ہے کہ استاد کا مقام و مرتبہ نہایت بلند و بالا ہے۔۔
ٓاگر ہم استاد کو اس کامقام نہیں دیں گے تو زوال ہمارا مقدر ہوگاایسا کوئی بھی واقعہ جس میں اساتذہ کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا ہو جس میں اساتذہ کی تذلیل کی گئی ہو وہ قابل مذمت ہے گذشتہ دنوں جو واقعہ سکول کے باہر ڈھول بجانے والا رونما ہوا قابل مذمت ہے کیا ہم اپنی ٓنے والی نسلوں کو یہ تعلیم دے رہے ہیں؟اس سلسلے میں جس جس نے اس واقعے کا نوٹس لیاسب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔کاش ہم اساتذہ کے مقام کو سمجھ پائیں۔
استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے
اگر ہم استاد کو اس کا مقام دیں گے جس کا وہ مستحق ہے تو یقینا ہم دنیا کی صف اول کی قوموں میں شامل ہو جائیں گے ان شاء اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں